Understanding Yourself!

ELC- Module 1 

Managing People

Part 2

Understanding  yourself

In this blog,you will get to know more about Understanding Yourself

1.Applying assertiveness.

2.Understanding personality types.

3.How to become assertive?

4.Positional Power/Personal Power.

5.X-style manager/Y-style manager.

6.Clarifying your values.

7.Personal Values.

1.سب سے پہلے ہم بات کریں گے applying assertiveness:

جب ہم بات کرتے ہیں Teacher as manager کی تو ایک معلم کو active ہونے کے ساتھ ساتھ assertive بھی ہونا چاہیے۔اس کو آپ آسان الفاظ میں positive بھی کہ سکتے ہیں۔تاکہ ان کو جو بھی کام دیا جائے وہ اس کو مثبت انداز میں کرسکیں اسی طرح اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے لئے بھی ایک اچھا ماحول فراہم کریں۔اور جن بچوں کی تربیت آپ کے ذمے ہے ان بچوں کے بارے میں بھی مثبت رہیں۔اور assertiveness ایک ایسی خوبی ہے جو نہ صرف آپ کو اپنی professional life میں فائدہ پہنچاسکتی ہے بلکہ آپ کو اپنی personal life میں بھی اس سے بہت فائدہ ہوگا۔اس میں بس ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ ہم assertive بنیں اور aggressive نہ بنیں ۔کیونکہ aggressive قابل قبول نہیں ہے چاہے وہ جس field میں بھی ہو۔اگر آپ aggressive ہونگے تو کوئی بھی آپ کو ساتھ کام کرنا پسند نہیں کرے گا اور کوئی بھی آپ کو سننا پسند نہیں کرے گا۔

۲۔دوسری چیز ہے understanding personality types:

جب ہمارے ہاں شخصیت کی بات ہوتی ہے اور ان کا تعارف کروایا جاتاہے تو کچھ اس طرح کہا جاتا ہے کہ یہ کاروباری شخصیت ہے،یہ ڈاکٹر ہے،یہ بہت مالدار ہے،یہ زمیندار ہے وغیرہ وغیرہ۔جبکہ ہم اگر تحقیق کے مطابق بات کریں تو شخصیات کی اقسام کچھ اس طرح ہیں:

  • جارحانہ شخصیت    Aggressive personality
  • حاکمانہ شخصیت   Domineering personality
  • فعال شخصیت        Active personality
  • جابرانہ شخصیت     Pushy personality
  • غیر فعال شخصیت  Passive personality
  • غلامانہ شخصیت      Slavish personality
مذکورہ بالا شخصیات کو اگر ہم گروپس میں تقسیم کریں تو اس کا خاکہ مندرجہ ذیل ہوگا:


۳۔تیسری چیز ہے How to become assertive:
اب اگر آپ assertive بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ کام کرنے ہونگے:
سب سے پہلے آپ اپنی گفتگو کا انداز بدلیں مطلب state your case,کوشش کریں کہ گفتگو اس انداز سے کریں:میرے خیال میں ،میرے اندازے کے مطابق ،مجھے ضرورت ہے۔ایسا کرنے اسے آپ کے اندر aggressiveness نہیں آئے گی اور آپ دوسروں کو بھی موقع دے رہے ہونگے کہ وہ بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں۔
 
دوسرا کام آپ کو یہ کرنا ہے کہ Be Prepared،یعنی مشکل لوگوں کا سامنا کرنے کے لئے اور مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔کیونکہ آدمی سب سے زیادہ اپنے تجربوں سے سیکھتا ہےاس لئے کوئی بھی مشکل آپ کو میش آئے تو اس کا سامنا کریں اور اس پر جو آپ کا reaction تھا اس کو بھی محفوظ کریں۔اس صورت حال میں متوقع سوالات کا بھی اندازہ لگائیں۔

تیسرا کام Visualise yourself یعنی اپنے اطراف میں موجود با اعتماد شخص کے ساتھ موئثر شخصیت کے متوقع کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ 

چوتھا کام Get Perspective،یعنی اگر کوئی آپ کو پاس اپنا کوئی مسئلہ لے کر آتا ہے تو اس مسئلے کو اس شخص کی نقطہ نظر سے دیکھیں اور اس صورت حال میں اپنے آپ کو رکھ کر دیکھیں کہ اگر آپ اس کی جگہ ہوتے تو آپ کا کیا رد عمل ہوتا؟ہمارے اداروں کی بڑی خرابی اسی وجہ سے ہے کہ ہر کرئی اپنے آپ کو صحیح سمجھ رہا ہوتا ہے اور اپنے دئیے گئے حکم کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔بہت سی جگہوں پر غنڈہ گردی کی وجہ وہاں موجود افراد عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں اور کام کرنے سے عاجز ہوتے ہیں۔  

۴۔ دو قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں:

  
درحقیقت شخصیت کا اطلاق انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو طاقتور بھی ہوتے ہیں البتہ ہمارے زمانے میں جسمانی طاقتوروں سے زیادہ دوسرے قسم کے طاقتوروں کا بول بالا ہے، جو لوگ Professional Development یا Business Management کی Training's کرواتے ہیں ان کے تدریسی ، مطالعاتی مواد میں دو بڑی طاقتوں کا ذکر پایا جا تا ہے:

  1. عہدہ پر مبنی طاقت      Positional Power
  2.  صفات پر مبنی طاقت   Personal Power
تو ایک معلم/معلمہ کو طاقتور شخصیت بننے کے لیے جس طاقت کے حصول کی محنت کرنے چاہیے وہ Personal Power ہے۔ مثال کے طور پر :
  1. ذولفقار علی بھٹو Personal power کے مالک تھے۔ جبکہ ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو Positional Power کی مالک سمجھی جائیں گی۔
  2. مفتی محمود صاحب ؒ Personal power کے مالک تھے، جبکہ ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کو Positional Power کا حامل سمجھا جائے گا۔
  3. عمران خان بطور کرکٹر Personal power کے مالک ہیں جبکہ ان کے صاحبزادگانPositional power کے ۔
مذکور بالا مثالوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے جو لوگ Positional power کے حامل ہیں وہ Personal Power سے عاری ہیں بلکہ محض اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہےمتاع حیات Personal Power کے حصول کے لیے لگانا تو سودمند  رہے گا لیکن اگر ہم نے اپنا سرمایہ حیات کسی ختم ہونے والی پوزیشن کے لیے لگا دیا تو گو یا ہم نے لگا یا نہیں بلکہ لٹا دیا۔

۵۔ پانچویں چیز ہے Managerial Styles:
Douglas McGregor جوکہ ایک مایہ ناز Management professor تھے جن کا انتقال 1964 میں ہوا، سے منسوب ایک تحریر میں نے پڑھی جس میں انہوں نے اس کے بارے میں دو تقسیم بتائی ہے:
  1. X-STYLE MANAGER
  2. Y-STYLE MANAGER
دو طرح کے مینیجر ہوتے ہیں ۔اور آپ کس طرح کے مینیجر ہیں اور آپ کا کیا STYLE ہے یہ آپ کو اپنی چند صفات پر غور کرنے سے پتہ چلے گا اور اپنے رویے پر غور کرنے سے پتہ چلے گا۔

X-STYLE MANAGER کے حامل لوگ جس قسم کے رویوں کو اپناتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
  • ان کا برتاؤ ہمیشہ سخت اور ہر ایک پر اپنی خود مختاری دکھا نے کا ہوتا ہے۔
  • وہ اپنے سامنے والے کو ہمیشہ اپنے سے کم دکھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • ناقص کارکردگی پر فوراً اظہار برہمی اور سزا بھی دیتے ہیں۔
  • ان کی جانب سے موصول ہونے والا فیڈ بیک اکثر منفی تائثرات پر مبنی ہوتا ہے۔
جبکہ Y-STYLE MANAGER کے حامل لوگ جس قسم کے رویوں کو اپنا تے ہیں :
  • وہ دوسروں کے اور اپنے زیر اثر کام کرنے والوں کے بارے میں پُر امید رہتے ہیں۔
  • ان کے زیر اثر لوگ خوشی خوشی اپنے آپ کو ان کے بتائے ہوئے مقصد کی طرف راغب کرتے ہیں۔
  • وہ اپنے زیر اثر لوگوں میں اعتماد میں اضافہ کار ذریعہ بنتے ہیں۔
  • ایسے لوگ حکم کم دیتے ہیں اور ذمہ دار بناتے ہیں۔
اب ان صفات کی بنیاد پر آپ اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کونسے مینیجر ہیں اورآپ کا کیا STYLE ہے؟میرے خیال میں ہمیں Y-STYLE MANAGER  بننے کی کوشش کرنی چاہیےتاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہماری ذات سے فائدہ ہو۔

۶۔اپنی اقدار کو واضح کرنا Clarifying your values:مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنی اقدار کو اسلام کی روشنی میں بار بار دیکھنا ہوگا اور استحزار کرنا ہوگا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟،کیا ہمیں حق اور باطل میں فرق کرنا آگیا ہے؟کیا ہم کوئی ایسی چیز adopt تو نہیں کررہے جو ایک مسلمان کو نہیں کرنی چاہیے؟اور ہمیں ہر زمانے میں اپنی اقدار کو اپنے مذہب سے align رکھنا ہوگا۔

۷۔ذاتی اقدار Personal Values:
 اس کو جانچنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ بیٹھ کر یہ سوچیں کہ آپ کے مرنے کے بعد لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد رکھتے ہیں؟کیا آپ نے اپنے معاشرے کے لئے کوئی ایسا کام کیا ہے کہ لوگ آپ کو اچھے الفاظوں میں یاد رکھیں؟
لہذا ہمیں کچھ وقت اپنی ذات کے لئے بھی نکالنا چاہیے اور اپنی اقدار کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی ہم درست سمت میں جارہے ہیں؟کیا ہمارے دنیا میں آنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہورہا ہے؟


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

ELC-MODULE 1 ''Managing a team".

HOW TO MANAGE PEOPLE?

Secularism